ایران پر امریکی پابندیوں کا نیا مرحلہ، قانونی فرم بھی نشانے پر آگئی

امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے یونان اور پاناما میں قائم قانونی فرم کارناکیس اینڈ کارناکیس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی حکام نے فرم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کئی برس سے ایرانی جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو قانونی اور انتظامی معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق تازہ پابندیاں ایران کے تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حمل سے متعلق ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا حصہ ہیں، جن پر امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف کمپنیوں اور جہازوں کی اصل ملکیت پوشیدہ رکھنے کے الزامات ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، چاہے وہ سمندر میں غیر قانونی تیل کی منتقلی میں ملوث ہوں یا کسی قانونی فرم کے اعلیٰ عہدے پر کام کر رہے ہوں۔
قانونی فرم پر کیا الزامات عائد کیے گئے؟
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ کے مطابق کارناکیس اینڈ کارناکیس کئی برس سے ایسی کاغذی کمپنیاں قائم کرتی رہی ہے، جن کے ذریعے ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور اسٹیل منتقل کرنے والے جہازوں کے حقیقی مالکان کی شناخت چھپانے میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی جاتی تھی۔
امریکی حکام کا الزام ہے کہ ان کمپنیوں کو ایسے تجارتی نیٹ ورکس کے لیے استعمال کیا گیا، جن کے ذریعے ایرانی تیل کی بڑی مقدار فروخت کی گئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا فائدہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کی قدس فورس اور یمن کے حوثیوں کو پہنچتا رہا۔ تاہم ان الزامات کے حوالے سے قانونی فرم کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آسکا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرم سے رابطہ کیا گیا، لیکن فوری جواب موصول نہیں ہوا۔
یورپی بینکوں کے خلاف بھی تحقیقات
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک (فِن سین) نے ایران سے ممکنہ مالی روابط کی تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے یونان کے ایک بینک کو انتظامی سمن جاری کیا ہے، تاہم متعلقہ بینک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ فِن سین نے مزید 6 یورپی بینکوں سے بھی معلومات طلب کی ہیں تاکہ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ ان کے ممکنہ روابط کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہ کارروائیاں مالیاتی نگرانی اور تحقیقات کا حصہ ہیں، جبکہ متعلقہ بینکوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔
جہاز رانی کے ادارے بھی پابندیوں کی زد میں
امریکی محکمہ خزانہ نے سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم جہاز رانی سے وابستہ اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ادارے ایران کے مبینہ خفیہ بحری بیڑے کی سرگرمیوں میں معاونت کر رہے تھے، جسے ایرانی تیل اور دیگر مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ تازہ اقدامات کا مقصد ایران کے ایسے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے، جن کے ذریعے پابندیوں کے باوجود تیل کی فروخت اور آمدنی کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پس منظر
واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ رواں ماہ امریکا نے ایران پر مزید براہِ راست حملوں سے گریز کیا، تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل کی تجارت سے منسلک اداروں کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ تازہ پابندیاں بھی اسی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت ایرانی جہاز رانی، مالیاتی روابط اور تجارت میں معاونت کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایران پر حملہ ہوگا یا نہیں؟ ٹرمپ کے تازہ اعلان نے اہم سوالات کھڑے کر دیے

برطانوی فوجی اڈے پر حملے کا خدشہ، امریکا نے B-1 بمبار طیارے واپس بلا لیے

جنوبی وزیرستان میں زیتون کی بھرپور پیداوار، سرکاری مشین کی مبینہ خرابی سے زمینداروں کی محنت ضائع ہونے لگی

جنوبی وزیرستان کے ہونہار طالب علم کی بیرونِ ملک بڑی تعلیمی کامیابی

سہ ملکی سیریز سے قبل سری لنکا کو بڑا دھچکا، اہم اوپنر پتھم نسانکا ٹورنامنٹ سے باہر
