جمعرات، 29 اکتوبر 2026

جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری اسکولوں کا فرنیچر کہاں گیا؟ سنگین سوالات اٹھ گئے

شائع 9
جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری اسکولوں کا فرنیچر کہاں گیا؟ سنگین سوالات اٹھ گئے

 جنوبی وزیرستان اپر میں سرکاری اسکولوں کے لیے فراہم کیے جانے والے فرنیچر کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فروخت کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس سے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں۔


مقامی ذرائع کے مطابق ضلع کے متعدد سرکاری اسکولوں، بالخصوص طالبات کے تعلیمی اداروں کے لیے باقاعدہ طور پر فرنیچر مختص کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ اسکول تاحال اس سہولت سے محروم ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان اداروں کے لیے فراہم کیا جانے والا فرنیچر مبینہ طور پر فروخت کیا جا چکا ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ معاملے پر محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا، لیکن کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کو بھی باقاعدہ درخواست جمع کرائی گئی، تاہم کئی روز گزرنے کے باوجود کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔


مقامی ذرائع نے محکمہ تعلیم کے بعض اہلکاروں پر سیاسی وابستگی اور مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض اہلکار پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو جواب دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔


اس صورتحال میں اسکولوں کے لیے فرنیچر کی خریداری، تقسیم اور وصولی کے سرکاری ریکارڈ کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی ذرائع نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔


واضح رہے کہ فرنیچر کی مبینہ فروخت اور متعلقہ اہلکاروں کے کردار سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کا مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں