جمعرات، 29 اکتوبر 2026

خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، وزیراعظم کی زیرِ صدارت کن امور پر غور؟

شائع 19
خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، وزیراعظم کی زیرِ صدارت کن امور پر غور؟

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے، جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس کے جرگہ ہال میں منعقدہ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، رانا ثناء اللہ اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہیں۔ 


اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ترقیاتی اقدامات اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔


گورنر راج کے بعد اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئے انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے۔ یاد رہے کہ 11 اکتوبر 2026 کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش اور وزیراعظم کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔


وفاقی حکومت نے اپنے فیصلے کی وجہ صوبے میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات میں سابق صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا تھا، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کیے گئے، جبکہ حکومتی امور چلانے کے لیے ان کی معاونت سے متعلق 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی گئی۔


متاثرہ اضلاع میں انتظامی و ترقیاتی اقدامات

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی و ترقیاتی ڈھانچہ بھی قائم کیا ہے، جس میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔ 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے ان اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹیو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے 48 ارکان کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔


حکومتی مؤقف کے مطابق کونسل کے قیام کا مقصد مقامی نمائندگی کو فروغ دینا، عوامی مسائل کی نشاندہی، ترقیاتی ترجیحات کے تعین اور امن و امان کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانا ہے۔


ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف عدالتی کارروائی

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ 20 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ درخواستوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔ اسی دوران سہیل آفریدی کی مبینہ حراست سے متعلق درخواست پر بھی عدالت نے متعلقہ حکام سے ان کے مقام اور قانونی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔ اس درخواست کی مزید سماعت 3 نومبر کو مقرر ہے۔


واضح رہے کہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جبکہ اجلاس کے حتمی فیصلوں اور سرکاری اعلامیے کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں