جمعرات، 29 اکتوبر 2026

Read in English

جنوبی وزیرستان میں زیتون کی بھرپور پیداوار، سرکاری مشین کی مبینہ خرابی سے زمینداروں کی محنت ضائع ہونے لگی

شائع 1
جنوبی وزیرستان میں زیتون کی بھرپور پیداوار، سرکاری مشین کی مبینہ خرابی سے زمینداروں کی محنت ضائع ہونے لگی

زیتون سے تیل کی انتہائی کم مقدار نکلنے پر کاشتکار پریشان، محکمہ زراعت پر غفلت کا الزام، مشین کی فوری مرمت اور تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی کا مطالبہ

وانا: جنوبی وزیرستان لوئر میں زیتون کی پیداوار بڑھنے کے باوجود مقامی زمیندار اپنی فصل سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔ محکمہ زراعت کی جانب سے نصب کردہ زیتون سے تیل نکالنے والی مشین کی مبینہ خرابی کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔


متاثرہ زمینداروں کے مطابق انہوں نے تیل نکالنے کے لیے زیتون کی 13 بوریاں سرکاری مشین پر فراہم کیں، جن میں سے ہر بوری کا وزن تقریباً 40 کلوگرام تھا۔ مجموعی طور پر 520 کلوگرام زیتون سے صرف 22 لیٹر تیل حاصل ہوا۔


زمینداروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں وانا کے 100 کلوگرام زیتون سے تقریباً 22 لیٹر تیل حاصل ہوتا تھا، تاہم اس مرتبہ مشین کی ناقص کارکردگی کے باعث پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔ ان کے بقول ایک زمیندار کو تقریباً 75 سے 80 لیٹر تیل کے برابر نقصان اٹھانا پڑا۔


کاشتکاروں نے الزام عائد کیا کہ مشین چلانے کے لیے نہ تو کوئی تربیت یافتہ آپریٹر موجود ہے اور نہ ہی متعلقہ محکمہ کا کوئی ذمہ دار افسر مستقل نگرانی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مشین ایک کم عمر بچے کے حوالے کی گئی ہے، جسے اسے چلانے کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل نہیں۔


زمینداروں کا کہنا ہے کہ مشین کی خرابی اور تیل کی کم پیداوار سے متعلق محکمہ زراعت کے حکام کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، لیکن ان کی شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر تیل نکالنے کی مناسب سہولت نہ ہونے کے باعث انہیں زیتون دوسرے اضلاع میں لے جانا پڑتا ہے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور منافع کم ہو جاتا ہے۔


متاثرہ زمینداروں نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ، ڈائریکٹر زراعت اور ڈائریکٹر جنرل زراعت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل ایکسٹریکٹر مشین کی فوری تکنیکی جانچ اور مرمت کرائی جائے، تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے اور متعلقہ مرکز میں ذمہ دار افسر کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔


کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ وانا میں زیتون کی کاشت سے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اگر تیل نکالنے کی سرکاری سہولت ہی درست کام نہ کرے تو سال بھر کی محنت کے باوجود زمیندار اپنی فصل کا پورا فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں