ہفتہ، 10 اکتوبر 2026

پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ، یمن تنازع کے سیاسی حل پر زور

پاکستان نے سلامتی کونسل میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے یمن میں کشیدگی کے خاتمے، محفوظ بحری تجارت اور جامع سیاسی حل پر زور دیا

شائع · 10 اکتوبر 2026، 15:04
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار سلامتی کونسل میں یمن کی صورتِ حال پر ماہانہ بریفنگ کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (فوٹو: ایکس)
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار سلامتی کونسل میں یمن کی صورتِ حال پر ماہانہ بریفنگ کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (فوٹو: ایکس)

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان نے یمن میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور تنازع کے جامع سیاسی حل پر بھی زور دیا ہے۔


سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب کو اپنے شہریوں، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بنیادی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور سلامتی کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے حملے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔


پاکستانی مندوب نے یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملوں سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہو رہی ہے اور اہم بحری راستوں سے گزرنے والے جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔  عاصم افتخار احمد نے حوثیوں سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ آمدورفت بین الاقوامی تجارت اور عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے۔


انہوں نے یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستانی مندوب نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنازع کا پائیدار حل مذاکرات اور یمنی عوام کی قیادت میں جامع سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے تعز اور عدن کے اطراف کشیدگی کے باعث شہری آبادی کو درپیش خطرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔


پاکستان نے حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ، امدادی اداروں اور سفارتی مشنز کے اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر بھی زور دیا۔ خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے علاقائی کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ، انسانی بحران سے نمٹنے اور یمن میں امن کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔