جمعرات، 29 اکتوبر 2026

جنوبی وزیرستان: سرکاری دعوت کے باوجود اجلاس میں داخلے سے انکار، صحافیوں کا ڈپٹی کمشنر کو لیگل نوٹس

شائع 65اپ ڈیٹ
جنوبی وزیرستان: سرکاری دعوت کے باوجود اجلاس میں داخلے سے انکار، صحافیوں کا ڈپٹی کمشنر کو لیگل نوٹس

پریس کلب صدر کی حاضری لگنے کے بعد بھی شرکت کی اجازت نہ ملی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تنازع قانونی فورم پر جائے گا یا مذاکرات سے حل ہوگا؟


جنوبی وزیرستان: ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا سے وابستہ جرنلسٹ پینل نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کو قانونی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پینل کا الزام ہے کہ اس کے ارکان کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا میں منعقدہ ایک سیمینار سے باہر کر دیا گیا، جبکہ پریس کلب صدر کو سرکاری نوٹیفکیشن میں باقاعدہ دعوت کے باوجود اجلاسوں میں شرکت سے روکا گیا۔


جرنلسٹ پینل کے چیئرمین اور ارکان کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا میں سرویکل وائرس کی روک تھام کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد ہوا تھا، جس میں ڈپٹی کمشنر بھی شریک تھے۔ پینل کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں سیمینار سے باہر کر دیا گیا، جسے انہوں نے اپنی تذلیل اور صحافتی وقار کے منافی قرار دیا ہے۔


اس معاملے کا پس منظر ضلعی انتظامیہ کے 6 اکتوبر 2026 کے دو سرکاری نوٹیفکیشن ہیں، جن میں نمبر 17 پر صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب کو بھی باقاعدہ طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ ان نوٹیفکیشنز کے تحت ایچ پی وی ویکسینیشن مہم، ستمبر پوسٹ کمپین پولیو سرگرمیوں اور نومبر 2026 کی پولیو مہم سے متعلق اجلاس 7 اکتوبر 2026 کو لوئر کیمپ، ڈی ای او سی کانفرنس ہال میں منعقد ہونا تھا۔


صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب کے مطابق، سرکاری نوٹیفکیشن میں باقاعدہ دعوت کے باوجود انہیں اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ ان کے مطابق اجلاس سے قبل ان کی حاضری بھی لگوائی گئی، تاہم بعد ازاں انہیں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ صدر کے مطابق انہیں یہ مؤقف دیا گیا کہ انتظامیہ کی پالیسی سے اتفاق، بعض معاملات کو عوام کے سامنے نہ لانا اور انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت کرنا ضروری ہے، جبکہ اختلاف کی صورت میں اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں مبینہ طور پر ٹیکنیکل ٹیم کی مصروفیت کو وجہ بنا کر انہیں ملاقات اور اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔


دوسری جانب ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے بعض صحافیوں اور پروگریسیو پینل کے ارکان نے اس معاملے کو پریس کلب کا اجتماعی مؤقف تسلیم کرنے کے بجائے جرنلسٹ پینل اور ڈپٹی کمشنر کے درمیان ذاتی نوعیت کا اختلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کو فریق نہیں بنایا جانا چاہیے۔ پروگریسیو پینل کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے سال 2026 کے انتخابات تاحال منعقد نہیں ہوئے، اس لیے باقاعدہ منتخب کابینہ کی حیثیت سے کسی پینل کے دعوے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جرنلسٹ پینل کے ارکان پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی، جسے وہ قبول نہیں کرتے۔ تاہم اس تشکیل کے طریقہ کار اور قانونی حیثیت کے حوالے سے متعلقہ فریقین کا مؤقف بھی اہم ہے۔


ذرائع کے مطابق اس اقدام پر ڈپٹی کمشنر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنہیں اپنا سمجھتے تھے، وہی دشمن بن گئے۔ تاہم اس بیان اور واقعے کے تمام پہلوؤں پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔


اس واقعے نے وانا کی صحافی برادری میں پریس کلب کی نمائندگی، صحافتی آزادی، انتظامیہ اور میڈیا کے تعلقات اور داخلی اختلافات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خاص طور پر پولیو اور ایچ پی وی ویکسینیشن جیسی عوامی صحت کی مہمات میں میڈیا کا کردار عوامی آگاہی، اعتماد سازی اور درست معلومات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ صحافتی نمائندوں کو سرکاری پالیسیوں کی حمایت یا مخالفت سے مشروط کرنے کے بجائے انہیں حقائق جاننے، سوالات اٹھانے اور عوامی مفاد کے معاملات رپورٹ کرنے کا آزادانہ موقع ملنا چاہیے، اور اختلاف رائے جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے۔


پریس کلب کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کی وجوہات باضابطہ طور پر واضح کی جائیں، 6 اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں پریس کلب کی شمولیت اور اجلاس میں شرکت کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے، اور اگر کسی صحافتی نمائندے کو کسی مخصوص پالیسی کی حمایت یا کسی معاملے کو رپورٹ نہ کرنے سے مشروط کیا گیا ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ نیز ضلعی انتظامیہ اور مقامی صحافتی اداروں کے درمیان احترام، شفافیت اور پیشہ ورانہ اصولوں پر مبنی رابطہ یقینی بنایا جائے، اور عوامی صحت کی مہمات میں میڈیا کو اپنا آزادانہ، ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔


اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تنازع قانونی فورم پر آگے بڑھتا ہے یا متعلقہ فریقین مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں