پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا اہم فیصلے ہوئے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 21 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے اکثریتی رائے سے علی امین گنڈاپور کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ ان کا سیاسی اور انتظامی تجربہ بتایا گیا ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 11 اکتوبر کو دو تہائی اکثریت رکھنے والی خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ اعلامیے میں اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا ہے۔
قبائلی اضلاع میں نئے انتظامی نظام اور اے آر ڈی سیز کی مخالفت
پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر قبائلی اور بعض بندوبستی اضلاع میں قائم کیے جانے والے نئے انتظامی نظام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر قانونی اور سیاسی حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو ساتھ ملا کر تحریک چلائی جائے گی۔ پارٹی نے ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز (اے آر ڈی سیز) کے ذریعے غیر منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کی کوشش بھی مسترد کر دی ہے۔
صوبائی قیادت کے عہدوں پر وضاحت
گزشتہ اجلاس کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کی وضاحت کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر ہیں۔ ان عہدوں کے حوالے سے گزشتہ اجلاس میں نہ کوئی بات چیت ہوئی اور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان آئینی اور تنظیمی عہدوں سے متعلق فیصلہ کرنا صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اختیار میں نہیں ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے بیان پر پارٹی چیئرمین سے نوٹس لینے کا مطالبہ
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور ٹویٹ پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے معاملے کا نوٹس لینے، جبکہ سلمان اکرم راجہ سے بیان واپس لینے اور صوبائی پارلیمانی پارٹی سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عمران خان اور دیگر زیرِ حراست رہنماؤں کی رہائی کے لیے احتجاجی حکمتِ عملی کا مطالبہ
اعلامیے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر زیرِ حراست رہنماؤں کی رہائی کے لیے فوری طور پر واضح اور مؤثر احتجاجی لائحۂ عمل دیا جائے، تاکہ آئین و قانون کے دائرے میں سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو منظم کیا جا سکے۔
اعلامیے میں وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم خان سواتی، صوبائی وزراء، اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی، پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اغوا اور گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے اور مبینہ طور پر اغوا کیے گئے رہنماؤں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرے۔ عدالتوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ قانونی کارروائی میں تاخیر سے گریز کرتے ہوئے متعلقہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔
اعلامیے کے اختتام پر صوبائی پارلیمانی پارٹی نے صوبے کے آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق کے تحفظ، منتخب قیادت اور کارکنوں کی بازیابی، عمران خان اور دیگر زیرِ حراست افراد کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ضلع خیبر: لنڈی کوتل پریس کلب پر نقاب پوش مسلح افراد کا دھاوا، ڈی پی او سے رپورٹ طلب

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

فیلڈ مارشل کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں امن و خوشحالی لائیں گے، وزیراعظم

خیبرپختونخوا ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، وزیراعظم کی زیرِ صدارت کن امور پر غور؟

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج پر غور
