پیر، 5 اکتوبر 2026

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج پر غور

وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج اور دیگر آئینی اقدامات کے امتزاج سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

شائع · 5 اکتوبر 2026، 11:28 · 2 منٹ میں پڑھیں
ایمرجنسی یا گورنر راج دونوں کیلئے ضروری حالات موجود ہیں، تاہم آئین میں فراہم کردہ اقدامات کا ایک امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے: ذرائع۔ فوٹو پی ٹی آئی فیس بک
ایمرجنسی یا گورنر راج دونوں کیلئے ضروری حالات موجود ہیں، تاہم آئین میں فراہم کردہ اقدامات کا ایک امتزاج اختیار کیا جا سکتا ہے: ذرائع۔ فوٹو پی ٹی آئی فیس بک

اسلام آباد: وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے، جبکہ ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کسی ایک اقدام کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج کا آپشن بھی زیر غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں آئین میں موجود مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔


وفاقی حکومت اس سے قبل بھی عندیہ دے چکی ہے کہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی نظام سے متعلق اقدامات زیر غور آپشنز میں شامل ہو سکتے ہیں۔


پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مبینہ ناکامی کو قرار دیا تھا۔


وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایسے حالات پیدا ہوں جن میں آئین کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت ہو تو متعلقہ آئینی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔


رپورٹ کے مطابق حکومت نے فوری طور پر ان اقدامات میں سے کسی ایک کے نفاذ کے بجائے صورتحال کا مزید جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔


ذرائع کی جانب سے آئینی اقدامات کے امتزاج کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زیر غور آپشنز صرف ایمرجنسی یا گورنر راج تک محدود نہیں، تاہم ممکنہ اقدامات کی مکمل نوعیت تاحال واضح نہیں کی گئی۔


آئین کے آرٹیکل 232 میں مخصوص سنگین ہنگامی حالات میں ایمرجنسی سے متعلق دفعات موجود ہیں، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام آئین کے مطابق نہ چلائے جا سکنے کی صورت میں اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعلق ہے۔


دونوں دفعات کے طریقۂ کار اور آئینی اثرات مختلف ہیں۔ آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی حکومت اور مقننہ کے بعض اختیارات سے متعلق اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ بذاتِ خود صوبائی اسمبلی کی معطلی نہیں کرتا۔

یہ خبر شیئر کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

اپنی رائے دیں

تبصرے منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں۔ براہِ کرم شائستہ زبان استعمال کریں۔