جمعرات، 29 اکتوبر 2026

فیلڈ مارشل کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں امن و خوشحالی لائیں گے، وزیراعظم

شائع 1
فیلڈ مارشل کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا میں امن و خوشحالی لائیں گے، وزیراعظم

پشاور : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا دور واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے عوام کی محرومیوں کے خاتمے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔


وزیراعظم گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی استعداد بڑھانے سمیت مختلف انتظامی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔


گورنر راج کیوں نافذ کرنا پڑا؟ وزیراعظم نے وجوہات بتا دیں

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث وفاقی حکومت کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ جیسے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ انہوں نے سابق پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔


وزیراعظم کے مطابق 2017 اور 2018 تک ملک میں بڑی حد تک امن قائم ہو چکا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں دہشت گردی کے دوبارہ پھیلاؤ نے عوام اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آخری کوشش کے طور پر پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیے اور معاملات طے کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔


شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا ہے۔


پولیس کی خالی اسامیوں اور سیف سٹی منصوبوں پر سوالات

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیاں پُر نہیں کی گئیں، جبکہ سیف سٹی منصوبے بھی نامکمل رہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، پولیس کی تربیت اور جدید آلات کی فراہمی پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ شہباز شریف کے مطابق 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی ایک فیصد وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔


انہوں نے بتایا کہ اس مد میں صوبے کو 800 ارب روپے سے زائد وسائل فراہم کیے جا چکے ہیں یا فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے بقول مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں، جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔


بدعنوانی سے متعلق سنگین الزامات

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں مبینہ بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور ضلع کوہستان کے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں 37 ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے گولڈ پراجیکٹ میں ٹھیکوں کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل کے شفاف استعمال اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وزیراعظم کے عائد کردہ الزامات ہیں، جن کی بنیاد پر متعلقہ افراد یا سابق صوبائی حکومت کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔


ایڈوائزری کونسل سے عوامی مسائل کے حل کی توقع

شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بہتر علاج، معیاری تعلیم، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے گورنر خیبرپختونخوا اور ایڈوائزری کونسل کے ارکان سے توقع ظاہر کی کہ وہ صوبے کی مجموعی صورتحال بہتر بنانے، انتظامی کارکردگی بڑھانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو درکار وسائل فراہم کرنے کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور صوبے کے معاشی استحکام میں بھی تعاون کرے گی۔


گورنر خیبرپختونخوا کا امن اور ترقی کو اولین ترجیح قرار دینے کا اعلان

اس سے قبل گورنر فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوامی مسائل کا حل صوبائی انتظامیہ کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے۔


گورنر نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں، معاون نیٹ ورکس اور مالی معاونت کے ذرائع کے خلاف بھی منظم کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانا، عوام کا اعتماد بحال کرنا اور انتظامی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔


ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی پر خصوصی توجہ

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور اب انہیں بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے قبائلی اضلاع کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے اور وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ گورنر کے مطابق صوبائی انتظامیہ اور ایڈوائزری کونسل نے مختلف مسائل اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لے کر قابلِ عمل تجاویز تیار کی ہیں، جن پر متعلقہ اداروں کے تعاون سے پیش رفت کی جائے گی۔


پشاور اسکول سانحے کی تحقیقات پر زور

اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو متاثرہ خاندانوں سے ملاقات اور سانحے کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔


خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا پس منظر

واضح رہے کہ 11 اکتوبر 2026 کو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں گورنر کی معاونت کے لیے مشاورتی کونسل قائم کی گئی، جبکہ دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی و ترقیاتی اقدامات بھی کیے گئے۔ ان اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔


وفاقی حکومت نے ان اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹیو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے 48 ارکان بھی مقرر کیے ہیں۔ دوسری جانب ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اقدامات کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی تعاون سے خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی، ترقیاتی عمل کی رفتار بڑھانے اور عوام کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں