پیر، 12 اکتوبر 2026

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سیاسی نہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نافذ کی گئی، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نافذ کی گئی۔ عطا تارڑ کی صوبائی حکومت پر تنقید

شائع · 12 اکتوبر 2026، 18:34
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سیاسی نہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نافذ کی گئی، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنا آسان فیصلہ نہیں تھا، تاہم عوام کی سلامتی اور ملکی معیشت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔


انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باعث ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا نہیں۔ ان کے مطابق امن کی بحالی کے لیے حکومتی فیصلوں کے نتائج آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سامنے آئیں گے۔


افغان طالبان دہشت گردی کے خلاف وعدے پورے کریں

نائب وزیراعظم نے افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔ اسحاق ڈار کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور القاعدہ سے اس کے روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی جاتی ہے۔


https://x.com/ForeignOfficePk/status/2109579266749034698?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2109579266749034698%7Ctwgr%5E13af1fa414e8268713a0267fef608445b6148766%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fhumnews.pk%2Flatest%2F620474%2F 

انہوں نے اپریل 2025 میں اپنے دورۂ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کی، تاہم افغان حکام سے بنیادی مطالبہ یہی رہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔


دہشت گرد ڈرونز اور مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا، خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع کے ذریعے اپنے نیٹ ورکس مضبوط بنا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد ڈرونز اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے لیے تعاون مزید ضروری ہو گیا ہے۔


خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، عطا تارڑ

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران دہشت گردی کے مؤثر سدباب، پولیس کی جدید تربیت اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔


عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کو این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے، پولیس کو جدید اسلحہ کیوں فراہم نہیں کیا گیا اور مختلف اضلاع میں سیف سٹی کیمرے کیوں نصب نہیں کیے گئے؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دہشت گردوں کو کسی صورت کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔


افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے چھ ہزار سے زائد دہشت گرد موجود ہیں اور افغان حکام کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔