جنوبی وزیرستان میں پولیو مہمات کا حیران کن معاملہ، بچوں کو قطرے پلائے گئے یا صرف انگلیوں پر نشان لگائے گئے؟
جنوبی وزیرستان میں پولیو مہمات پر سنگین سوالات، بچوں کو قطرے پلائے گئے یا صرف کاغذی کوریج ظاہر کی گئی؟ مقامی ذرائع کے الزامات اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ۔

وانا: جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل اور توئی خلہ میں گزشتہ 14 ماہ کے دوران پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں اور غفلت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد علاقوں میں بچوں کو ضروری ویکسین فراہم نہیں کی گئی، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں مکمل کوریج ظاہر کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
بچوں کی انگلیوں پر نشان، مگر قطرے نہیں پلائے گئے؟
ذرائع کے مطابق ستمبر 2026 کی پولیو مہم کے دوران بعض علاقوں میں مبینہ طور پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بجائے صرف ان کی انگلیوں پر نشان لگائے گئے۔ اس کے علاوہ مقررہ اہداف مکمل ظاہر کرنے کے لیے ویکسین کے مبینہ ضیاع کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن ٹیموں کی حقیقی رسائی، بچوں کی تعداد، استعمال شدہ ویکسین اور نگرانی کے ریکارڈ کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقائق میں فرق کا الزام
ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کی گئی ویکسینیشن کوریج اور زمینی صورتحال کے درمیان مبینہ فرق پایا جاتا ہے۔ مقامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر تمام بچوں کو واقعی حفاظتی قطرے اور ٹیکے فراہم کیے گئے ہیں تو متعلقہ حکام کو آزادانہ فیلڈ آڈٹ کے ذریعے اس کی تصدیق کرانی چاہیے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پشاور سے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک آزاد ٹیم جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل اور توئی خلہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرے اور ویکسینیشن کے سرکاری اعدادوشمار کا زمینی حقائق سے موازنہ کرے۔
عالمی اداروں اور صوبائی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ
مقامی حلقوں نے عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسیف، کامنیٹ، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران ہونے والی پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کا خصوصی فیلڈ آڈٹ کرایا جائے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ بچوں کی فہرستوں، ویکسینیشن ٹیموں کے ریکارڈ، ویکسین کے استعمال، مائیکرو پلانز، مانیٹرنگ رپورٹس اور حقیقی کوریج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اس عمل سے واضح ہو سکے گا کہ آیا تمام متعلقہ بچوں تک ویکسین پہنچائی گئی یا بعض علاقوں میں مبینہ طور پر صرف کاغذی کوریج ظاہر کی گئی۔
بچوں کی صحت کے تحفظ پر تشویش
پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جو بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ویکسینیشن مہمات میں کسی بھی ممکنہ غفلت یا بے ضابطگی کی شفاف تحقیقات بچوں کی صحت اور پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے اہم ہیں۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سامنے لائے جائیں اور اگر کسی اہلکار یا ذمہ دار کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ یہ تمام الزامات مقامی ذرائع اور عوامی حلقوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ محکمہ صحت جنوبی وزیرستان لوئر اور ضلعی انتظامیہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

جنوبی وزیرستان وانا میں خسرہ پھیلنے کا خدشہ، سینکڑوں بچوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں وہ فصل کاشت ہو گئی جو کبھی سوچی نہ تھی، نتیجہ سب کو حیران کر گیا

جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کے میڈیکل کوٹے پر تحفظات، الگ الگ کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان: اسکول میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بچوں کو نقد انعام کے ساتھ اور کیا دیا گیا؟

جنوبی وزیرستان لوئر: زمینی تنازع کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر کا سپرکئی مشران سے جرگہ
