جمعرات، 29 اکتوبر 2026

جنوبی وزیرستان میں مونگ پھلی کی ترسیل کے لیے کسانوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

شائع 5
جنوبی وزیرستان میں مونگ پھلی کی ترسیل کے لیے کسانوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

وانا میں مونگ پھلی کے کاشت کاروں سے مبینہ بھتہ وصولی کا معاملہ، قمر عباس وزیر کا کارروائی کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مونگ پھلی کی خرید و فروخت کے سیزن کے دوران کاشت کاروں سے مبینہ بھتہ وصولی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سابق صدر وانا کونسلرز اتحاد قمر عباس وزیر نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ مونگ پھلی لے جانے والی گاڑیوں سے چیک پوسٹوں اور گیٹس پر مبینہ غیر قانونی وصولیوں کا سلسلہ بند کرایا جائے۔

 
قمر عباس وزیر کے مطابق زرمیلان، گل کچ، اعظم ورسک، کالوتائی اور جنوبی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں مونگ پھلی کی کٹائی اور خرید و فروخت جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فصل مقامی کسانوں کے روزگار اور آمدن کا اہم ذریعہ ہے، تاہم مبینہ بھتہ وصولی کے باعث کاشت کاروں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 
انہوں نے کہا کہ مونگ پھلی کی گاڑیوں سے مختلف مقامات پر مبینہ طور پر بھتہ وصول کیے جانے سے کسانوں کی آمدن متاثر ہو رہی ہے اور ان پر اضافی اخراجات کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ قمر عباس وزیر نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن خان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر کاشت کاروں کو مبینہ ناجائز وصولیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ 


انہوں نے محکمہ زراعت کے ذریعے کسانوں کو مفت پرمٹ جاری کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مونگ پھلی سے لدی گاڑیاں پنجاب کی منڈیوں تک پہنچنے میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا نہ کریں۔


 ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت مونگ پھلی کی ترسیل کے لیے پرمٹ طلب کر رہی ہے، اس لیے متعلقہ حکام کسانوں کو درپیش اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ قمر عباس وزیر نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی محنت کا تحفظ کیا جائے، ان پر مالی بوجھ کم کیا جائے اور مونگ پھلی کی دوسری منڈیوں تک ترسیل کا عمل آسان بنایا جائے۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں