4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خواجہ آصف کا بڑا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر لانگ مارچ سے قبل خیبرپختونخوا حکومت پر بدامنی کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا انتباہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور تشدد پیدا کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 9 مئی جیسے واقعات یا پُرتشدد حملوں کی کوشش کی گئی تو ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ ایکسپریس اردو
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے آنے والے لانگ مارچ کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر کے ساتھ مل کر انتشار پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ وفاقی وزیر کا دعویٰ ہے؛ پیش کی گئی رپورٹس میں اس الزام کے حق میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد سامنے نہیں آئے۔
https://x.com/KhawajaMAsif/status/2106122078089003311?s=20
خواجہ آصف نے بنوں واقعے کا حوالہ کیوں دیا؟
وزیر دفاع نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے 15 جولائی 2024 کے بنوں کینٹ حملے کا حوالہ دیا۔ اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے 8 اہلکار جان سے گئے تھے، جبکہ حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے چار روز بعد 19 جولائی کو بنوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران بعض عناصر نے کینٹ کے سپلائی ڈپو کی جانب پیش قدمی کی اور صورتحال پُرتشدد ہوگئی۔ انہوں نے موجودہ حالات کا موازنہ اسی واقعے سے کرتے ہوئے آئندہ مارچ کے دوران بھی بدامنی پیدا کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا۔ ایکسپریس اردو
4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے متعلق کیا دعویٰ کیا گیا؟
خواجہ آصف کے مطابق انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ لانگ مارچ کے دوران بعض مقامات پر فوجی یا پولیس تنصیبات کے قریب افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کی آڑ میں 9 مئی جیسے واقعات یا پُرتشدد حملوں کی کوشش ہوئی تو ریاست سخت کارروائی کرے گی۔ ایکسپریس اردو
دوسری جانب پی ٹی آئی اس مؤقف سے مختلف بات کر رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ پُرامن ہوگا، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی اسے پُرامن سیاسی احتجاج قرار دے چکے ہیں۔
سیاسی جدوجہد اور مسلح کارروائی میں فرق ہے، وزیر دفاع
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پُرامن سیاسی سرگرمی ایک الگ معاملہ ہے، تاہم اگر کسی سیاسی سرگرمی کی آڑ میں مسلح تشدد کیا گیا تو ریاست اسے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھے گی۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 4 اکتوبر کے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو ہوا، جبکہ 3 اکتوبر کو بات چیت کا دوسرا دور متوقع ہے۔
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کیسز میں اضافہ، ایک ہفتے میں کتنے نئے کیسز رپورٹ ہوئے؟

لوئر دیر میں بچوں کی اموات کی وجہ کیا؟ محکمہ صحت کی 10 رکنی ٹیم تحقیقات کے لیے روانہ

قبائلی جرگہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے سرگرم

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا اب کتنے کا ہوگیا؟

جنوبی وزیرستان سے بلوچستان تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟
