ایم این اے زبیر خان وزیر کی گرفتاری، اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے پر شدید تشویش: ہارون وزیر
ایم این اے زبیر خان وزیر کی گرفتاری کو 24 روز مکمل، اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے پر پی ٹی آئی رہنما ہارون وزیر کا اظہارِ تشویش اور حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف جنوبی وزیرستان لوئر کے سینئر رہنما ہارون وزیر نے کہا ہے کہ رکن قومی اسمبلی زبیر خان وزیر کی گرفتاری کو 24 روز گزر چکے ہیں، تاہم تاحال ان کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات یا رابطے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث خاندان اور کارکنوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف جنوبی وزیرستان لوئر کے سینئر رہنما ہارون وزیر نے رکن قومی اسمبلی زبیر خان وزیر کی گرفتاری اور ان کے اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری وضاحت اور قانونی تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہارون وزیر کے مطابق زبیر خان وزیر کی گرفتاری کو 24 روز مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اب تک ان کی موجودہ صورتحال اور مقام کے حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان سے رابطہ ممکن ہو سکا ہے، جس سے خاندان اور سیاسی کارکنوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
جمہوری اقدار اور سیاسی اختلافِ رائے پر تشویش
ہارون وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ زبیر خان وزیر کی گرفتاری ملک میں سیاسی اختلافِ رائے کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے بقول جمہوری اقدار، آئین و قانون کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی اختلافات کو جمہوری مکالمے اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنے کے بجائے گرفتاریوں اور مبینہ ریاستی دباؤ کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سیاسی آوازوں کو دبانے، مخالفین کو گرفتار کرنے اور عوام کے حوصلے پست کرنے سے آخر کب تک عوامی جذبات اور سیاسی جدوجہد کو روکا جا سکتا ہے؟ ہارون وزیر کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے اور سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے آئین، قانون اور باہمی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سیاسی جدوجہد گرفتاریوں سے ختم نہیں کی جا سکتی
ہارون وزیر نے مزید کہا کہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور دباؤ جیسے ہتھکنڈے سیاسی کارکنوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق سیاسی جدوجہد کسی ایک رہنما کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایسے اقدامات عوامی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے لیے آواز اٹھانے کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
اعلیٰ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ
ہارون وزیر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ رکن قومی اسمبلی زبیر خان وزیر کی موجودہ صورتحال، قانونی حیثیت اور مقام کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زبیر خان وزیر کو آئین و قانون کے مطابق اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے رابطے اور ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے، تاکہ ان کے خاندان میں پائی جانے والی تشویش دور ہو سکے۔ ہارون وزیر نے زور دیا کہ معاملے میں تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے اور متعلقہ حکام اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیں۔

رکن قومی اسمبلی کی مبینہ گمشدگی پر تشویش، پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان لوئر میں سرکاری محکموں کے سربراہان کی مبینہ غیر حاضری، انتظامی کارکردگی پر سوالات

جنوبی وزیرستان میں آئی ایس ایف کا احتجاج، گورنر راج اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف نعرے بازی

میڈیکل کالجز کی نشستوں کی تقسیم پر تنازع، جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے طلبہ کے لیے مساوی کوٹے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کے میڈیکل کوٹے پر تحفظات، الگ الگ کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ
