جمعہ، 9 اکتوبر 2026
خبر لوڈ ہو رہی ہے…

میڈیکل کالجز کی نشستوں کی تقسیم پر تنازع، جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے طلبہ کے لیے مساوی کوٹے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے طلبہ کے لیے میڈیکل کالجز کی 21، 21 نشستوں کی مبینہ تقسیم پر تحفظات، صوبائی حکومت سے مساوی کوٹے اور نظرِثانی کا مطالبہ

شائع · 9 اکتوبر 2026، 21:04
میڈیکل کالجز کی نشستوں کی تقسیم پر تنازع، جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے طلبہ کے لیے مساوی کوٹے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے طلبہ کے لیے میڈیکل کالجز میں داخلوں کی مختص نشستوں کی تقسیم پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ مقامی سطح پر اٹھائے گئے مطالبات میں صوبائی حکومت سے نشستوں کی تقسیم پر نظرِثانی اور دونوں اضلاع کے طلبہ کو دیگر ضم شدہ اضلاع کے برابر مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سابقہ فاٹا کے دیگر ضم شدہ اضلاع کے لیے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی 42، 42 نشستیں مختص ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی وزیرستان اپر اور جنوب  وزیرستان لوئر کے حصے میں 21، 21 نشستیں آنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔


اس تقسیم پر تحفظات ظاہر کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ جنوبی وزیرستان کی انتظامی طور پر دو اضلاع میں تقسیم کے بعد دونوں اضلاع کے طلبہ کو الگ الگ کوٹے کا حق ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر دیگر ضم شدہ اضلاع کے طلبہ کو 42 نشستیں مل رہی ہیں تو جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے لیے بھی اسی اصول کے تحت نشستوں کا تعین ہونا چاہیے۔ تاہم نشستوں کی موجودہ تقسیم، دیگر اضلاع کے کوٹے اور اس حوالے سے اختیار کردہ سرکاری معیار کی مکمل تصدیق متعلقہ داخلہ پالیسی اور سرکاری نوٹیفکیشن سے ہونا باقی ہے۔


اس معاملے پر آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے نوجوان پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی، معاشی مشکلات اور طویل عرصے سے جاری نامساعد حالات کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں میڈیکل کالجز کی نشستوں کی تقسیم میں مبینہ عدم مساوات ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ کسی دوسرے ضلع کے طلبہ کی نشستیں کم کرنے کا نہیں، بلکہ جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے طلبہ کے لیے مساوی اور منصفانہ مواقع یقینی بنانے کا ہے۔


اس معاملے میں جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر سے تعلق رکھنے والے دونوں منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تحفظات ظاہر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں اراکین کا تعلق صوبے کی حکمران جماعت سے ہے، اس لیے انہیں میڈیکل نشستوں کا مسئلہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں اور نشستوں کی تقسیم سے متعلق صوبائی حکومت کا واضح مؤقف عوام کے سامنے لائیں۔


مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ داخلہ حکام سابقہ فاٹا کے تمام ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی نشستوں کی ضلع وار تفصیلات جاری کریں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ہر ضلع کا کوٹہ کس بنیاد پر مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے لیے نشستوں کی تقسیم کا آبادی، علاقائی پسماندگی، انتظامی حیثیت اور متعلقہ سرکاری پالیسی کی روشنی میں دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔


مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ دونوں اضلاع کے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی محکمہ صحت، صوبائی حکومت اور متعلقہ داخلہ اداروں کے ساتھ رابطہ کرکے اس مسئلے کا حل نکالیں، جبکہ نشستوں کی تقسیم کا تحریری اور قابلِ تصدیق معیار عوام کے سامنے رکھا جائے۔ تحفظات ظاہر کرنے والوں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ معاملے کو سیاسی وابستگی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے اور جنوبی وزیرستان کے اہل طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جائے۔


ان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے طلبہ بھی دیگر اضلاع کے نوجوانوں کی طرح اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع کے حق دار ہیں، اس لیے نشستوں کی تقسیم سے متعلق ابہام دور کرکے شفاف اور منصفانہ فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔