جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کے میڈیکل کوٹے پر تحفظات، الگ الگ کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ
جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کے میڈیکل کوٹے پر عوامی حلقوں کے تحفظات، دونوں اضلاع کے طلبہ کے لیے الگ اور منصفانہ کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ۔

جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کو دو الگ اضلاع میں تقسیم کیے جانے کے باوجود میڈیکل نشستوں کا کوٹہ ایک ضلع کے حساب سے مختص کیے جانے پر عوامی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں اضلاع کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔
متعلقہ حلقوں کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے میڈیکل نشستوں کا مقررہ کوٹہ 42 نشستیں فی ضلع ہے، تاہم جنوبی وزیرستان کی اپر اور لوئر میں تقسیم کے باوجود میڈیکل کوٹہ بدستور ایک ضلع کے حساب سے رکھا گیا ہے، جسے بعد میں دونوں اضلاع کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامی طور پر جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر دو الگ اضلاع ہیں، اس لیے میڈیکل نشستوں کے معاملے میں بھی دونوں اضلاع کے طلبہ کے لیے الگ الگ اور مناسب کوٹہ مقرر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر دونوں اضلاع کے طلبہ کے لیے آبادی اور متعلقہ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ کوٹہ مقرر کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں نے بالخصوص پاکستان تحریک انصاف جنوبی وزیرستان اپر کے ذمہ داران، ایم پی اے آصف خان محسود، سینیٹر دوست محمد خان محسود، پارٹی کارکنان اور وزیرستان کے دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو متعلقہ فورمز پر اٹھائیں اور طلبہ کے حق میں اس کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

جنوبی وزیرستان: اسکول میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بچوں کو نقد انعام کے ساتھ اور کیا دیا گیا؟

جنوبی وزیرستان وانا میں خسرہ پھیلنے کا خدشہ، سینکڑوں بچوں کے متاثر ہونے کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان لوئر: زمینی تنازع کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر کا سپرکئی مشران سے جرگہ

نوٹیفکیشن کے باوجود پریس کلب صدر کو اجلاس میں شرکت سے مبینہ انکار، وانا میں آزادیٔ صحافت پر سوالات

سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا
