7 اکتوبر: ایک تاریخ جس نے دنیا بدل دی، مگر کیا دنیا نے اس سے کچھ سیکھا؟
7 اکتوبر 2023 کے تین سال بعد غزہ کی تباہی، وزیرستان کی نقل مکانی، عالمی سیاست اور صحافت کی ذمہ داری پر خصوصی تجزیہ۔

کچھ تاریخیں کیلنڈر پر محض ایک عدد نہیں رہتیں۔ وہ انسانی تاریخ میں ایسے موڑ بن جاتی ہیں جن کے اثرات برسوں تک سیاست، معاشرت، معیشت اور سب سے بڑھ کر عام انسانوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ 7 اکتوبر بھی اب ایسی ہی ایک تاریخ بن چکی ہے۔
آج، 7 اکتوبر 2026 کو، دنیا 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے تین سال مکمل ہونے پر ایک مرتبہ پھر اس سوال کے سامنے کھڑی ہے کہ جنگوں، انتقام، تباہی اور مسلسل انسانی نقصان کے بعد آخر حاصل کیا ہوا؟ اقوام متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں کے اسرائیل پر حملوں میں 1,200 سے زائد اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔
اس کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، تباہی اور نقل مکانی کو جنم دیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک 74,200 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد قرار دیتا ہے، جبکہ تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہوئے جو غزہ کی 83 فیصد آبادی بنتی ہے۔
تین سال گزر گئے، زخم آج بھی باقی ہیں
تین سال ایک طویل عرصہ محسوس ہوتا ہے، مگر جنگ سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے لیے وقت کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے۔ جس گھر سے کوئی شخص ہمیشہ کے لیے چلا جائے، جس بچے کے سر سے والدین کا سایہ اٹھ جائے، جس خاندان کو اپنا گھر چھوڑنا پڑے یا جس شخص نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا شہر تباہ ہوتے دیکھا ہو، اس کے لیے جنگ خبروں کی ایک سرخی نہیں رہتی۔
یہ اس کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس سال 7 اکتوبر کی تیسری برسی کے موقع پر اسرائیلی متاثرین کے ساتھ ساتھ غزہ کے فلسطینی شہریوں کی مسلسل تکالیف کی طرف بھی توجہ دلائی اور مستقل جنگ بندی، بڑے پیمانے پر انسانی امداد اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔
6 اکتوبر 2026 کے اپنے پیغام میں گوتریس نے 7 اکتوبر کے حملوں کو "گھناؤنا" قرار دیا اور تسلیم کیا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی سے کچھ ریلیف ملا مگر وہ سلامتی اور بحالی کا قابل اعتماد راستہ نہ دے سکی۔ یہی شاید 7 اکتوبر کا سب سے اہم سبق ہے: جنگ شروع ہونے کی تاریخ معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اس کے زخم کب ختم ہوں گے، یہ کوئی نہیں جانتا۔
پاکستان کا مؤقف: سفارت سے سڑکوں تک
پاکستان نے ان تین برسوں میں فلسطینی کاز پر اپنا مؤقف نہ بدلا نہ نرم کیا۔ 21 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک (مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) نے مشترکہ بیان میں غزہ جنگ بندی کے تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے مکمل رد کا مطالبہ کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں کہا کہ پاکستان کا مقصد واضح ہے: فلسطینیوں کے قتل کا خاتمہ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی ریاست کی جانب قابل اعتماد سیاسی راستہ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کا مطالبہ دہرایا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دوسری طرف 5 اکتوبر 2026 کو جماعت اسلامی نے تیسری برسی کے موقع پر ریلی نکالی، جس میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مسلم حکومتوں کی بے عملی پر تنقید کی گئی۔ یعنی پاکستان میں یہ مسئلہ صرف دفتر خارجہ کی فائلوں میں نہیں، سڑکوں پر بھی زندہ ہے۔
وزیرستان سے غزہ تک: درد کی مشترک زبان
اور پھر ہمارے اپنے قبائلی اضلاع ہیں۔ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے وانا بازار میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ریلی نکالی گئی جو امن چوک سے کالج روڈ تک گئی۔ 2024 میں یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر چترال سے ڈی آئی خان اور وزیرستان سے کوہستان تک خیبر پختونخوا کے تمام 38 اضلاع میں مظاہرے ہوئے۔ یہ محض نعرے نہیں تھے۔ وزیرستان کے لوگ "نقل مکانی" کا مطلب کتابوں سے نہیں جانتے، یہ ان کی اپنی کہانی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز پر شمالی وزیرستان سے دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے، جو بنوں، ڈی آئی خان، لکی مروت اور دیگر علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس سے پہلے 2009 میں آپریشن راہ نجات کے دوران جنوبی وزیرستان سے بھی تقریباً پونے تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے، نادرا کی تصدیق شدہ تعداد کے مطابق۔
جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے، خیمہ بستیوں میں راتیں گزاریں، اور واپسی پر ملبے کے ڈھیر دیکھے، وہ غزہ کے بے گھر خاندانوں کا درد کسی سے بہتر سمجھتے ہیں۔ جب وزیرستان کا کوئی بزرگ غزہ کی تباہ شدہ گلیوں کی تصویر دیکھتا ہے تو اسے اپنا ماضی یاد آتا ہے۔ یہی وہ مشترک زبان ہے جو سرحدوں سے نہیں رکتی: بے گھر ہونے کا دکھ ہر زبان میں ایک جیسا ہوتا ہے۔
جنگ میں سب سے زیادہ قیمت کون ادا کرتا ہے؟
دنیا کی بیشتر جنگوں میں فیصلے طاقتور حلقے کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی سب سے بھاری قیمت اکثر عام شہری ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف 7 اکتوبر کے حملوں میں اسرائیلی شہریوں کا قتل اور یرغمال بنائے جانے کا المیہ تھا، تو دوسری طرف اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی وسیع فوجی کارروائیوں نے فلسطینی آبادی کو شدید انسانی بحران سے دوچار کیا۔ اقوام متحدہ سے منسلک دستاویزات غزہ میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور آبادی کی بار بار نقل مکانی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں ایک حقیقت سب سے نمایاں ہے:
بے گناہ انسان کی جان کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، ماں کسی بھی سرحد کے اس پار رہتی ہو، اور گھر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے خاندان کا ہو، جنگ کی آگ جب وہاں پہنچتی ہے تو درد کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔
7 اکتوبر نے صرف مشرقِ وسطیٰ کو نہیں بدلا
7 اکتوبر 2023 کے بعد پیدا ہونے والی جنگ صرف غزہ اور اسرائیل تک محدود سیاسی مسئلہ نہیں رہی۔ اس نے بین الاقوامی سفارت کاری، علاقائی سلامتی، انسانی حقوق، احتجاجی تحریکوں اور عالمی رائے عامہ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی جنگ سے متعلق اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل رہا اور مختلف مواقع پر قراردادوں اور سفارتی کوششوں کو اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر دنیا کے سب سے طاقتور ادارے بھی جنگ روکنے میں طویل عرصہ لیتے ہیں تو عام شہری اپنی حفاظت کے لیے کس کی طرف دیکھیں؟ یہ سوال صرف فلسطین یا اسرائیل کا نہیں بلکہ عالمی نظام کی مؤثریت سے متعلق بھی ہے۔
میڈیا کے لیے بھی 7 اکتوبر ایک امتحان تھا
جدید دور میں جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ موبائل فون کی سکرین پر بھی لڑی جاتی ہے۔ ایک ویڈیو، چند سیکنڈ کی کلپ، ایک تصویر یا ایک نامکمل بیان چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ جنگ کے دوران درست معلومات کے ساتھ غلط معلومات، پرانی ویڈیوز، سیاق و سباق سے ہٹ کر تصاویر اور جذباتی دعوے بھی تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔
یہاں صحافت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
صحافی کا کام کسی فریق کے غصے کو بڑھانا نہیں بلکہ حقائق تلاش کرنا، دعووں کی تصدیق کرنا، متاثرہ انسانوں کی آواز سامنے لانا اور خبر و پروپیگنڈے کے درمیان فرق واضح کرنا ہے۔ جنگ کے ماحول میں ایک غلط خبر صرف غلط فہمی پیدا نہیں کرتی، بعض حالات میں وہ نفرت اور مزید تشدد کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
کیا امن صرف جنگ بندی کا نام ہے؟
جنگ بندی یقیناً ضروری ہے، مگر پائیدار امن اس سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بچہ یہ خوف لے کر نہ سوئے کہ اگلی صبح اس کا گھر موجود ہوگا یا نہیں، اور کوئی ماں اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے بے چین نہ رہے۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کو امن، وقار اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق ملے، چاہے وہ کسی بھی سرزمین پر رہتا ہو۔ اسی لیے اقوام متحدہ مسلسل ایسے سیاسی راستے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے جس میں سب کے حقوق، وقار اور جائز امنگوں کا احترام ہو۔
7 اکتوبر کا ایک دوسرا حوالہ بھی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے عالمی دنوں کی فہرست میں 7 اکتوبر کو عالمی یومِ کپاس بھی منایا جاتا ہے، جبکہ 4 سے 10 اکتوبر تک عالمی خلائی ہفتہ جاری رہتا ہے۔ ایک طرف دنیا سائنس، خلا، تجارت اور انسانی ترقی کی نئی منزلیں تلاش کر رہی ہے، اور دوسری طرف انسان اب بھی جنگ، نقل مکانی اور عدم تحفظ کے پرانے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ یہ تضاد ہمارے عہد کی شاید سب سے بڑی کہانی ہے۔
تاریخ کا اصل سبق کیا ہے؟
7 اکتوبر ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ تین سال پہلے کیا ہوا تھا۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ تین سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا نفرت کم ہوئی؟
کیا عام انسان زیادہ محفوظ ہوا؟
کیا دنیا نے تنازعات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے پہلے حل کرنے کا کوئی بہتر طریقہ سیکھا؟ اور سب سے اہم سوال، کیا ہم انسانی جان کو سیاسی اختلاف، سرحد، مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر دیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ تاریخ صرف ماضی محفوظ کرنے کا نام نہیں۔ تاریخ کا اصل فائدہ تب ہے جب آنے والی نسلیں ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھیں۔
7 اکتوبر کی تاریخ ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ جنگ میں فتح کے دعوے کئی ہوسکتے ہیں، مگر جب بچے مارے جائیں، خاندان بکھر جائیں اور بستیاں اجڑ جائیں تو انسانیت ضرور ہارتی ہے۔
آپ کے خیال میں کیا دنیا نے 7 اکتوبر کے بعد جنگ، انسانی جانوں کے تحفظ اور پائیدار امن کے حوالے سے کوئی سبق سیکھا ہے، یا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

وطن زیب محسود
وطن زیب محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور لکھاری ہیں۔ وہ اپنی صحافتی و تحریری سرگرمیوں کے ذریعے جنوبی وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے عوامی، سماجی، تعلیمی اور علاقائی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں مقامی حالات، عوامی مسائل اور معاشرے سے جڑے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ صحافت اور تحریر کے ذریعے مقامی آواز اور زمینی حقائق کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
وطن زیب محسود کی تمام تحریریں ›
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی سیکیورٹی اور عالمی امن پر گفتگو

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج پر غور

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا اب کتنے کا ہوگیا؟

جنوبی وزیرستان سے بلوچستان تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟

شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 7 خوارج ہلاک
