جمعہ، 9 اکتوبر 2026

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندان معاوضوں اور علاج کی عدم فراہمی پر سراپا احتجاج

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں نے معاوضوں کی عدم ادائیگی اور زخمیوں کے مفت علاج کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

شائع · 9 اکتوبر 2026، 14:43 · اپ ڈیٹ:
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندان معاوضوں اور علاج کی عدم فراہمی پر سراپا احتجاج

جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک سے تعلق رکھنے والے 40 متاثرہ خاندانوں نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی اور زخمیوں کے علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کے خلاف احتجاج کیا۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری داد رسی کا مطالبہ کیا۔


پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں نے کہا کہ علاقے میں مختلف اوقات میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ بعض خاندانوں کے چھ سے سات جبکہ بعض کے آٹھ سے نو افراد تک ان واقعات میں شہید یا زخمی ہوئے، جس کے باعث کئی گھرانے شدید مالی اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں۔


 زخمیوں کے علاج کے لیے مالی معاونت کا مطالبہ

متاثرین نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی سہولت میسر نہیں، جس کی وجہ سے انہیں نجی ہسپتالوں میں علاج کروانا پڑتا ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث بعض زخمی کئی ماہ سے مناسب طبی سہولیات اور ضروری ادویات سے محروم ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زخمیوں کے مفت علاج اور ادویات کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔


 شہداء کے لواحقین کو معاوضوں کی عدم ادائیگی

متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی کہ دہشت گردی کے واقعات میں اپنے پیاروں کو کھونے کے باوجود انہیں تاحال اعلان کردہ یا واجب الادا معاوضے نہیں مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاوضوں کے حصول کے لیے متعلقہ تھانوں اور ضلعی پولیس افسر کے دفتر کے مسلسل چکر لگانا پڑتے ہیں۔ بعض درخواستوں پر دو ماہ گزرنے کے باوجود پیش رفت نہیں ہوئی، جس سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔


 وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور متعلقہ اداروں سے اپیل

پریس کانفرنس میں متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، چیف سیکرٹری، صوبائی حکومت اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے معاوضوں کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ متاثرین نے زخمیوں کے مفت علاج، ضروری ادویات کی فراہمی اور معاوضوں کے حصول میں حائل انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے پر زور دیا۔


 پُرامن زندگی اور بنیادی حقوق کا مطالبہ

متاثرہ خاندانوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے علاقے میں مزید بدامنی نہیں چاہتے بلکہ امن، تحفظ اور باعزت زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام کو بھی ملک کے دیگر اضلاع کے شہریوں کی طرح صحت، تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔


پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرین نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے مسائل کو محض یقین دہانیوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ شہداء کے لواحقین کو معاوضے، زخمیوں کو علاج اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔