شیخ فاطمہ ہسپتال شولام کی طبی سہولیات پر سوالات، کارکردگی کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ

مقامی شہری سعید انور وزیر نے ایمرجنسی، ڈائیلاسز اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ہسپتال کی کارکردگی اور اخراجات کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
وانا: جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے شولام میں قائم شیخ فاطمہ ہسپتال کی کارکردگی اور طبی سہولیات کے حوالے سے مقامی شہری سعید انور وزیر نے سوالات اٹھاتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات، طبی عملے کی دستیابی اور ہسپتال کی مجموعی کارکردگی کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
شولام لنڈئے وڑی سے تعلق رکھنے والے سعید انور وزیر کے مطابق ٹرانس کانٹینینٹل فارما (TCP) کی جانب سے سوشل میڈیا پر ہسپتال کی طبی سہولیات سے متعلق معلومات اور تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عوام کو محض تشہیری مواد کے بجائے ہسپتال کی عملی کارکردگی اور فراہم کردہ خدمات کے مستند اعداد و شمار سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خصوصاً رات کے اوقات میں مناسب طبی سہولیات اور ایمرجنسی انتظامات کی دستیابی سے متعلق مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سعید انور وزیر نے بالخصوص ڈائیلاسز، گائنی اور ٹراما کے شعبوں کی صورتحال پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں متعلقہ ماہر ڈاکٹروں، تربیت یافتہ عملے اور ضروری طبی آلات کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کے مطابق مقامی سطح پر مطلوبہ علاج نہ ملنے کی صورت میں مریضوں کو وانا، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف سفری اور مالی مشکلات بڑھتی ہیں بلکہ بروقت علاج میں تاخیر کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہسپتال میں روزانہ کتنے مریض او پی ڈی میں آتے ہیں، کتنے مریض داخل کیے جاتے ہیں اور کتنے افراد کو ایمرجنسی، ڈائیلاسز، سرجری اور زچگی سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
سعید انور وزیر نے مطالبہ کیا کہ ہسپتال انتظامیہ گزشتہ چھ ماہ یا ایک سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کرے، جس میں مریضوں کی تعداد، دستیاب اسپیشلسٹ ڈاکٹروں، نرسنگ و پیرامیڈیکل عملے، ادویات، طبی آلات اور چوبیس گھنٹے فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیلات شامل ہوں۔
انہوں نے ہسپتال کے انتظامی امور اور سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس بات سے آگاہ کیا جانا چاہیے کہ دستیاب وسائل کس حد تک مریضوں کے علاج اور ضروری طبی سہولیات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
سعید انور وزیر کا کہنا تھا کہ شیخ فاطمہ ہسپتال جنوبی وزیرستان کے عوام کے لیے ایک اہم طبی ادارہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور جہاں سہولیات میں کمی ہو، وہاں بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے صوبائی محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان لوئر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال کی کارکردگی، خصوصاً ایمرجنسی، ڈائیلاسز، گائنی اور ٹراما کی خدمات کا جائزہ لے کر عوام کو ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری اسکولوں کا فرنیچر کہاں گیا؟ سنگین سوالات اٹھ گئے

جنوبی وزیرستان میں آئی جی ایف سی کا پولیس کمپلیکس کا دورہ، شہریوں کو کن سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیا؟

جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں 5 نومبر کو کرفیو نافذ، متعدد اہم شاہراہیں بند رہیں گی

جنوبی وزیرستان اپر سمیت بارہ اضلاع کے سرکاری دفاتر اپنے اضلاع میں واپس آئیں گے؟ محمود جان بابر کا اہم بیان

جنوبی وزیرستان لوئر: دژہ غوندی چوک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، پولیس کانسٹیبل شہید
