پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی لانگ مارچ پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار، سماعت کل تک ملتوی
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی جانب سے لانگ مارچ کے راستے میں ممکنہ رکاوٹوں سے متعلق دائر درخواست پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ درخواست گزاروں کے حلقوں سے گزرے گا اور وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مارچ کا استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مارچ کے راستے میں ممکنہ رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں کیونکہ لانگ مارچ پہلے ہی جاری ہے۔
اس موقع پر جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ریمارکس دیے کہ تمام فریقین کا مؤقف سنے بغیر عدالت فوری عبوری ریلیف نہیں دے سکتی۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی حکم جاری کرچکی ہے۔ انہوں نے دلائل کی تیاری کے لیے مہلت طلب کی، جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خواجہ آصف کا بڑا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

اسلام آباد مارچ، قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید ترین آلات سے لیس

سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج پر غور

جنوبی وزیرستان سے بلوچستان تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟
