لائیوسہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا
سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر تھے، جبکہ عمران خان اور KP میں امن سے متعلق معاملات پر مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہوا۔

لائیو اپ ڈیٹس
پہلی اپ ڈیٹ جلد آ رہی ہے…
سہیل آفریدی اور مذاکراتی کمیٹی ایک ہی پیج پر ہیں، سلمان اکرم راجا
بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مذاکرات میں شامل کیے بغیر کوئی حتمی بات نہیں ہوسکتی، سلمان اکرم راجا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور حکومت سے مذاکرات کرنے والی اپوزیشن کمیٹی کے مؤقف میں کوئی اختلاف نہیں تھا اور دونوں ایک ہی پیج پر تھے۔
اسلام آباد میں بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے حکومتی نمائندوں کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ مذاکراتی عمل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وجہ سے ناکام ہوا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں ڈیڈ لاک بنیادی طور پر دو معاملات پر پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پہلا معاملہ عمران خان سے قانون کے مطابق ملاقاتوں اور ذاتی معالجین تک رسائی جبکہ دوسرا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے سے متعلق تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت ان مطالبات پر اتفاق نہیں کرسکی۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق قیدیوں، خواتین اور معمر افراد کی رہائی سے متعلق معاملات مثبت سمت میں بڑھ رہے تھے، تاہم عمران خان کے معالجین تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں امن و امان سے متعلق مشترکہ حکمت عملی پر اختلاف کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔
عمران خان کے بغیر حتمی فیصلہ نہیں ہوسکتا
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کسی بھی بامقصد سیاسی مکالمے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شامل کرنا ضروری ہے اور انہیں شامل کیے بغیر کوئی حتمی بات نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے وکلاء، اہل خانہ اور ساتھیوں کی ملاقاتوں کے ساتھ ذاتی معالجین تک رسائی کا معاملہ بھی حکومت کے سامنے رکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق ذاتی معالج تک رسائی سیاسی نہیں بلکہ صحت سے متعلق مطالبہ تھا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان پر مؤقف
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے منعقد کیے گئے امن جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں اور دیگر شراکت داروں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی پالیسی کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ اور مقامی آبادی کو نقل مکانی سے بچانے کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
مذاکرات اور لانگ مارچ
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد سہیل آفریدی لانگ مارچ کے لیے نکلے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے آئین، قانون اور امن کے لیے آواز اٹھانا چاہتی ہے۔
انہوں نے عدالتی مقدمات، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات میں مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق سوال پر سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیا کہ ان کا بلڈ پریشر کئی ہفتوں تک ادویات کے باوجود قابو میں نہیں آرہا تھا، جس کے بعد بیرون ملک سے ماہر ڈاکٹر کو بلایا گیا اور علاج کے بعد بلڈ پریشر بہتر ہوا۔
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے خواجہ آصف کا بڑا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے والا ہے؟

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور سے نومولود بچہ مبینہ طور پر اغوا، پولیس نے تحقیقات شروع کردیں

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کیسز میں اضافہ، ایک ہفتے میں کتنے نئے کیسز رپورٹ ہوئے؟

قبائلی جرگہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے سرگرم

پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے آئینی اقدامات کے امتزاج پر غور
