جمعہ، 9 اکتوبر 2026
بلاگ

10 اکتوبر کو دنیا بھر میں کیا خاص ہے؟ ایک ایسا عالمی دن جس کا تعلق ہم سب کی زندگی سے ہے

10 اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن کیوں منایا جاتا ہے؟ پاکستان میں کروڑوں متاثرہ افراد، علاج کی مشکلات، قومی پالیسی اور جنوبی وزیرستان کی صورتحال جانیے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ہر سال 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ذہنی صحت کی عالمی فیڈریشن کے مطابق اس دن کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی تھی، اور آج عالمی ادارہ صحت بھی اس مہم کا حصہ ہے۔ مقصد واضح ہے: ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، نفسیاتی مسائل سے جڑی غلط فہمیوں کا خاتمہ اور ضرورت مند افراد کو بروقت مدد کی جانب راغب کرنا۔


2026 کا موضوع: متاثرہ افراد کی آوازیں، حقیقی تبدیلی

ذہنی صحت کی عالمی فیڈریشن اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2026 کا موضوع ان لوگوں کے گرد گھومتا ہے جو خود ذہنی مسائل سے گزرے ہیں۔ پیغام یہ ہے کہ متاثرہ افراد کو محض سننا کافی نہیں، ان کے تجربات کو پالیسی سازی اور علاج کے نظام کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ یعنی آگاہی سے آگے بڑھ کر عملی تبدیلی کا وقت ہے۔


دنیا بھر کی تصویر بھی پریشان کن

یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سات میں سے ایک فرد یعنی تقریباً ایک ارب بیس کروڑ لوگ کسی نہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہیں، جن میں بے چینی اور ڈپریشن سب سے عام ہیں۔ اور ان میں سے بیشتر کو مؤثر علاج میسر نہیں۔ یعنی یہ ایک عالمی خاموش وبا ہے۔


پاکستان کی تشویشناک صورتحال: پچانوے فیصد علاج سے محروم

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً تین کروڑ چوبیس لاکھ افراد ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے محتاج ہیں، مگر صرف پانچ فیصد کو یہ سہولت میسر ہے۔ یوں پچانوے فیصد مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد آبادی پر صرف ایک ماہر نفسیات ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک لاکھ پر سات ماہرین ہیں۔ یہ فرق صورتحال کی سنگینی واضح کرتا ہے۔


نئی امید: قومی ذہنی صحت پالیسی

وزارت قومی صحت کے مطابق یکم اور دو اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ذہنی صحت کے عالمی اجلاس کے موقع پر پاکستان نے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذہنی صحت کو ہنگامی صورتحال، قومی سلامتی اور قومی معیشت کا مسئلہ قرار دیا۔ پالیسی کا مرکز اسکولوں، بنیادی مراکز صحت اور مقامی آبادیوں تک خدمات کی رسائی ہے، تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔


نوجوان نسل سب سے زیادہ خطرے میں

امتحانات کا دباؤ، بے روزگاری، معاشی غیر یقینی اور سوشل میڈیا کا مسلسل موازنہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ نئی پالیسی میں اسکولوں اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ رکھی گئی ہے، جو درست سمت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسکولوں میں کونسلر کب تعینات ہوں گے اور نصاب میں ذہنی صحت کی آگاہی کب شامل ہوگی۔ اعلان سے عمل تک کا فاصلہ ہی اصل امتحان ہے۔


قبائلی اضلاع کا خاموش بحران

جنگ، نقل مکانی اور طویل غیر یقینی صورتحال سے گزرنے والے علاقوں میں نفسیاتی زخم گہرے ہوتے ہیں۔ وزیرستان جیسے قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی اور بے گھری کا سامنا کیا، مگر وہاں ذہنی صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جہاں بنیادی اسپتال تک رسائی دشوار ہو، وہاں ماہر نفسیات کا حصول خواب لگتا ہے۔ خواتین اور بچے اس بحران کا دوہرا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ یہی وہ خاموش بحران ہے جو اس عالمی دن کے موقع پر سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔


معاشرتی رکاوٹیں توڑنا ضروری

ہمارے معاشرے میں ذہنی دباؤ کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ معاشرتی رویے، آگاہی کی کمی اور علاج تک محدود رسائی کے باعث بہت سے متاثرہ افراد مدد حاصل نہیں کر پاتے۔ دور دراز علاقوں میں خدمات کی فراہمی، درست معلومات کی تشہیر اور منفی تصورات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔


کیا ہونا چاہیے؟

بنیادی مراکز صحت میں ذہنی صحت کی اسکریننگ لازمی ہو، اسکولوں میں تربیت یافتہ کونسلرز تعینات ہوں، مقامی صحت کارکنوں کو بنیادی نفسیاتی مدد کی تربیت دی جائے اور مفت ہیلپ لائنز ہر ضلع تک پہنچیں۔ پالیسی کاغذ پر موجود ہے، اب اسے گلی محلے تک پہنچانا ہوگا۔


اپنی ذہنی صحت کا تحفظ کیسے ممکن؟

مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ صحت مند تعلقات اور روزمرہ مصروفیات میں سکون کے لمحات ذہنی صحت کے لیے مفید ہیں۔ اگر بے چینی یا اداسی طویل ہو جائے اور معمولات زندگی متاثر ہونے لگیں تو مستند طبی یا نفسیاتی ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔ مدد طلب کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی کی علامت ہے۔


اصل پیغام

ذہنی صحت کا عالمی دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی کی پریشانی کو معمولی سمجھنے کے بجائے اس کی بات توجہ سے سنی جائے اور ضرورت کے وقت سہارا دیا جائے۔ اس برس کا موضوع بھی یہی تقاضا کرتا ہے: آوازیں سنو اور پھر حقیقی تبدیلی لاؤ۔ ذہنی صحت کوئی کمزوری نہیں بلکہ صحت مند انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

وطن زیب محسود

وطن زیب محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور لکھاری ہیں۔ وہ اپنی صحافتی و تحریری سرگرمیوں کے ذریعے جنوبی وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے عوامی، سماجی، تعلیمی اور علاقائی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں مقامی حالات، عوامی مسائل اور معاشرے سے جڑے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ صحافت اور تحریر کے ذریعے مقامی آواز اور زمینی حقائق کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وطن زیب محسود کی تمام تحریریں ›
یہ تحریر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔