ہفتہ، 3 اکتوبر 2026

9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش ہوئی تو قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی ہوگی، کور کمانڈرز کانفرنس

277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی استحکام، دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی کا جائزہ، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے قانون کے مطابق فیصلہ کن انداز میں نمٹنے کا عزم۔

شائع · 2 اکتوبر 2026، 23:17 · 3 منٹ میں پڑھیں
9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش ہوئی تو قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی ہوگی، کور کمانڈرز کانفرنس

پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے ملک میں داخلی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جواز کے تحت انتشار پیدا کرنے یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے قانون کے مطابق فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ یہ مؤقف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں سامنے آیا۔ 

کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ تاہم فوجی بیان میں اس انتباہ کو براہِ راست پی ٹی آئی یا اس کے مجوزہ مارچ سے منسلک نہیں کیا گیا۔
ملکی اور علاقائی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ


کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی، داخلی استحکام، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔


کانفرنس کے شرکاء نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔


فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس بیسڈ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔


افغانستان سے دہشت گردی پر پاکستان کا مؤقف
کانفرنس میں افغانستان سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ فوجی قیادت نے افغانستان سے آنے والے دہشت گرد خطرات کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا حقِ دفاع قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فورم نے افغان طالبان قیادت پر بھی تنقید کی۔ کابل ماضی میں پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دی جارہی ہے۔ 

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورننس بہتر بنانے پر زور
کور کمانڈرز نے انسداد دہشت گردی کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ مؤثر انتظامی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


فورم کے مطابق گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب لانے، دہشت گردی کے اسباب کے بارے میں مؤثر عوامی رابطہ کاری، جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنے اور پولیس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 


داخلی استحکام کو انتہائی اہم قرار دے دیا گیا
کانفرنس میں پاکستان کے داخلی استحکام کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی بہانے انتشار یا 9 مئی 2023 جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے قانون کے مطابق بلاامتیاز اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ 


9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج کے دوران فوجی اور دیگر سرکاری تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے۔ پی ٹی آئی قیادت ان واقعات کی منصوبہ بندی کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ 


مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم
کانفرنس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا۔ تینوں ممالک نے اگست 2026 میں اس معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا تھا۔ 


فورم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ 


مسئلہ کشمیر اور دفاعی تیاریوں پر بھی گفتگو
کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ 


فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مؤثر تربیت اور مختلف جنگی صلاحیتوں کے انضمام کے ذریعے دفاعی تیاریوں میں اضافے پر بھی زور دیا۔

یہ خبر شیئر کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

اپنی رائے دیں

تبصرے منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں۔ براہِ کرم شائستہ زبان استعمال کریں۔