جنوبی وزیرستان کے علاقے کژہ پنگہ کے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم

جنوبی وزیرستان میں سروے کے مطابق 2 ہزار 506 بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں ایک ہزار 466 لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ 620 افراد بے روزگار ہیں
جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے گاؤں کژہ پنگہ میں تعلیم اور بے روزگاری سے متعلق ایک مقامی سروے میں تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جس کے مطابق گاؤں میں 2 ہزار 506 بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں ایک ہزار 466 لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ 18 سے 50 سال کی عمر کے 620 افراد بے روزگار ہیں۔
وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن (WAWA) کی جانب سے کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ علاقے میں خصوصاً بچیوں کی تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب گزشتہ دو برسوں کے دوران بدامنی، مسلح گروہوں کی دھمکیوں اور بم دھماکوں نے بھی تعلیمی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
بچیوں کی تعلیم کی صورتحال زیادہ تشویشناک
سروے کے مطابق گاؤں کوزہ پنگہ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے مجموعی طور پر 4 ہزار 105 بچوں کے اعدادوشمار جمع کیے گئے، جن میں 2 ہزار 80 لڑکے اور 2 ہزار 25 لڑکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں کے صرف 258 لڑکیاں اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ ایک ہزار 466 لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔ اسی طرح 768 لڑکے اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ ایک ہزار 40 لڑکے اسکولوں سے باہر ہیں۔
یہ اعدادوشمار علاقے میں بچوں، بالخصوص بچیوں کی تعلیم تک رسائی کے حوالے سے سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سروے میں اسکول جانے اور نہ جانے والے بچوں کی فراہم کردہ تعداد مجموعی سروے شدہ بچوں کی تعداد سے کم ہے، تاہم باقی بچوں کی تعلیمی حیثیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
بے روزگاری اور اعلیٰ تعلیم کی صورتحال
تعلیم کے ساتھ ساتھ گاؤں میں بے روزگاری بھی ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق 18 سے 50 سال کی عمر کے 620 افراد بے روزگار ہیں، جس سے علاقے میں روزگار اور معاشی مواقع کی کمی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں مقامی آبادی کی تعلیمی قابلیت سے متعلق بتایا گیا ہے کہ 159 افراد نے میٹرک، 140 نے انٹرمیڈیٹ اور 98 نے کالج کی سطح تک تعلیم حاصل کی ہے۔
اس کے علاوہ 69 افراد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ 57 افراد اس وقت کالج یا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ سروے کے مطابق گاؤں میں 11 ڈاکٹر اور 18 انجینئر بھی موجود ہیں۔ اسی طرح 40 مذہبی علما اور 129 دینی مدارس کے ایسے طلبہ کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے باضابطہ اسکولی نظام کے تحت تعلیم حاصل نہیں کی۔
بدامنی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر
وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران علاقے میں مسلح گروہوں کی دھمکیوں اور بم دھماکوں نے تعلیمی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پڑا ہے، والدین کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور بچوں، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سروے کے نتائج سے اس خدشے کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اگر علاقے میں امن و امان اور تعلیمی سہولیات کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو مزید بچے تعلیم سے محروم رہ سکتے ہیں۔
حکومت سے تعلیمی سہولیات کی بحالی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ
سروے کے تناظر میں حکومت، محکمہ تعلیم اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، تعلیمی اداروں کے تحفظ اور اسکولوں سے باہر بچوں کے دوبارہ داخلوں کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ خصوصاً بچیوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول اور مناسب سہولیات کی فراہمی کے ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار، فنی تربیت اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
سروے میں سامنے آنے والی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقے میں تعلیم، امن و امان اور روزگار کے مسائل کو ایک ساتھ حل کرنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کے تعلیمی اور معاشی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار وانا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مقامی سروے پر مبنی ہیں، جن کی سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری اسکولوں کا فرنیچر کہاں گیا؟ سنگین سوالات اٹھ گئے

جنوبی وزیرستان کے ہونہار طالب علم کی بیرونِ ملک بڑی تعلیمی کامیابی

جنوبی وزیرستان: اسکول میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بچوں کو نقد انعام کے ساتھ اور کیا دیا گیا؟

جنوبی وزیرستان: سرکاری دعوت کے باوجود اجلاس میں داخلے سے انکار، صحافیوں کا ڈپٹی کمشنر کو لیگل نوٹس

جنوبی وزیرستان میں گرینڈ قبائلی جرگہ، عوامی مسائل کے حل کے لیے کن امور پر غور کیا گیا؟
