ہفتہ، 31 اکتوبر 2026

Read in English

جنوبی وزیرستان : پاک صاف پروگرام سے متعدد ویلج کونسلوں کا اخراج، ملازمین پانچ ماہ کی تنخواہوں سے محروم

شائع 7
جنوبی وزیرستان : پاک صاف پروگرام سے متعدد ویلج کونسلوں کا اخراج، ملازمین پانچ ماہ کی تنخواہوں سے محروم

موسیٰ نیکہ، زالائی اور سرے خاورے سمیت متاثرہ ویلج کونسلوں کی بحالی اور بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ، فیصلے پشاور اور ٹانک کے بجائے جنوبی وزیرستان آکر کیے جائیں، سابق چیئرمین صدیق وزیر

جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے سابق چیئرمین صدیق وزیر نے پاک صاف کلین لینس پروگرام سے متعدد ویلج کونسلوں کے اخراج اور ملازمین کی پانچ ماہ سے زیرِ التوا تنخواہوں پر محکمہ لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔


صدیق وزیر کے مطابق موسیٰ نیکہ، زالائی، سرے خاورے اور دیگر ویلج کونسلوں کو صفائی پروگرام سے خارج کرنے کے فیصلے سے مقامی ملازمین کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام پہلے ہی بدامنی، دہشت گردی اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ سرحدی صورتحال کے باعث تحصیل برمل میں روزگار کے مواقع مزید محدود ہو چکے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ متاثرہ ملازمین نے پانچ ماہ تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، لیکن انہیں تاحال تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ ان کے بقول بقایا تنخواہوں کی رقم اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ جنوبی وزیرستان لوئر کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، اس کے باوجود ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں۔


سابق چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ جب ملازمین نے اپنی ڈیوٹیاں انجام دی ہیں تو ان کی تنخواہیں کس بنیاد پر روکی گئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی یا تنخواہوں کی بندش سے متعلق پشاور سے کوئی باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی سامنے نہیں آیا۔ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کی تحریری تفصیلات فراہم کی جائیں۔


صدیق وزیر نے بعض ویلج کونسل سیکرٹریز پر انتظامی غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ عملے کو مبینہ طور پر گھروں تک محدود رکھا گیا، جس سے صفائی کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سطح پر کوتاہی ہوئی ہے تو ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے، نہ کہ تمام ملازمین اور ویلج کونسلوں کو اس کی سزا دی جائے۔


انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعلقہ دفتر وانا میں قائم ہونے کے باوجود متاثرہ علاقوں کے باقاعدہ دورے نہیں کیے جاتے۔ ان کے مطابق افسران کو مقامی ملازمین اور عوام سے ملاقات کرکے مسائل کا جائزہ لینا چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام اور ملازمین سے متعلق فیصلے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان یا ٹانک میں بیٹھ کر کرنے کے بجائے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں۔


سابق چیئرمین نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر اور محکمہ لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ویلج کونسلوں کو پاک صاف پروگرام میں بحال کیا جائے، ملازمین کی پانچ ماہ کی بقایا تنخواہیں ادا کی جائیں اور ان کی ملازمتوں سے متعلق کسی بھی انتظامی فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن فراہم کیا جائے۔


انہوں نے ویلج کونسل سیکرٹریز اور متعلقہ اہلکاروں کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے، ملازمین کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانے اور متاثرہ کونسلوں کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مناسب مہلت دینے پر بھی زور دیا۔


صدیق وزیر کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں ان کی محنت کا قانونی حق ہیں، جن کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں