بنوں کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟

محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں بنوں کے متعدد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی سامنے آگئی، تعلیمی اداروں کی صورتحال پر اہم سوالات اٹھ گئے
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی رپورٹ میں ضلع بنوں کے 672 سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور عمارتوں کی مرمت کے لیے 4 ارب 50 کروڑ 93 لاکھ 98 ہزار 663 روپے کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اسکولوں میں 711 کمروں کی مرمت، 209 واش رومز کی تعمیر اور 33 اسکولوں کی چار دیواری کی تعمیر یا بحالی کے کام ہونا باقی ہیں۔
رپورٹ میں اسکولوں کی اقسام کے لحاظ سے ضروریات کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے مطابق پرائمری اسکولوں کو سب سے زیادہ فنڈز درکار ہیں۔ ضلع کے 585 پرائمری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور عمارتوں کی بہتری کے لیے 3 ارب 72 کروڑ 3 لاکھ 63 ہزار 270 روپے کی ضرورت ہے، جو مجموعی تخمینہ شدہ رقم کا تقریباً 82.5 فیصد ہے۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں اسکولوں کی سطح کے ساتھ مختلف تحصیلوں اور سب ڈویژن میں درکار تعمیراتی اور مرمتی کاموں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ ضلع بنوں کے 585 پرائمری اسکولوں میں 630 کمروں کی مرمت، 188 واش رومز کی تعمیر اور 22 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی کی ضرورت ہے۔ ان کاموں پر 3 ارب 72 کروڑ 3 لاکھ 63 ہزار 270 روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 35 مڈل اسکولوں میں 12 کمروں کی مرمت، 7 واش رومز کی تعمیر اور 5 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی کے لیے 34 کروڑ 29 لاکھ 56 ہزار 516 روپے درکار ہیں۔ اسی طرح 39 ہائی اسکولوں میں 59 کمروں کی مرمت، 11 واش رومز کی تعمیر اور 5 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی کے کاموں پر 39 کروڑ 45 لاکھ 18 ہزار 290 روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ ضلع کے 13 ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 10 کمروں کی مرمت، 3 واش رومز کی تعمیر اور ایک چار دیواری کی تعمیر یا بحالی کے لیے 5 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار 587 روپے درکار ہیں۔
تحصیلوں اور سب ڈویژن میں اسکولوں کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق تحصیل بنوں میں 417 سرکاری اسکولوں کو مختلف بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ ان میں 227 کمروں کی مرمت، 158 واش رومز کی تعمیر اور 33 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی شامل ہے۔ ضلع بھر میں چار دیواریوں سے متعلق تمام 33 ضروریات تحصیل بنوں میں درج کی گئی ہیں۔
سب ڈویژن وزیر کے 108 سرکاری اسکولوں میں 250 کمروں کی مرمت درکار ہے، جبکہ 32 واش رومز کی تعمیر کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں اس سب ڈویژن کے کسی اسکول کی چار دیواری کی تعمیر یا بحالی کی ضرورت ظاہر نہیں کی گئی۔
تحصیل میریان میں قائم 56 سرکاری اسکولوں کے 99 کمروں کی مرمت اور 11 واش رومز کی تعمیر ضروری ہے۔ تحصیل ڈومیل کے 42 اسکولوں میں 49 کمروں کی مرمت اور 4 واش رومز کی تعمیر درکار ہے۔ تحصیل ککی کے 30 سرکاری اسکولوں میں 60 کمروں کی مرمت کی ضرورت ہے، تاہم ان اسکولوں کے لیے واش رومز یا چار دیواریوں کی تعمیر و بحالی کا کوئی تخمینہ درج نہیں کیا گیا۔ تحصیل بکا خیل کے 16 سرکاری اسکولوں میں 26 کمروں کی مرمت اور 4 واش رومز کی تعمیر ضروری قرار دی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ضروریات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع بنوں کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی دور کرنے اور عمارتوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز درکار ہیں۔ خستہ حال کمروں کی مرمت، واش رومز کی تعمیر اور چار دیواریوں کی بحالی طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول اور محفوظ اسکولوں کی فراہمی کے حوالے سے اہم ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سب ڈویژن وزیر میں 250 کمروں کی مرمت اور تحصیل بنوں میں 158 واش رومز کی تعمیر نمایاں ضروریات میں شامل ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ درکار ہے۔

خیبرپختونخوا پولیس نے ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک کر دیا

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، متاثرہ افراد کی تعداد کتنی ہوگئی؟

جنوبی وزیرستان اپر کے سرکاری اسکولوں کا فرنیچر کہاں گیا؟ سنگین سوالات اٹھ گئے

ڈیرہ اسماعیل خان: روڈی خیل سے دو ٹیوب ویل آپریٹرز اغوا، بازیابی کے لیے صدرہ موڑ پر احتجاج

پشاور: توہین رسالت کیس میں افغان شہری کو سزائے موت، ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا
