اتوار، 11 اکتوبر 2026

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری، صدر زرداری کے سمری پر دستخط

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کر دیے، میڈیا رپورٹ۔

شائع · 11 اکتوبر 2026، 14:15
فوٹو: ایوان صدر
فوٹو: ایوان صدر

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اتوار کو وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سفارش کی۔


اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد مسلسل عام شہریوں، پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیراعظم نے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔


اجلاس میں پیش کی گئی سکیورٹی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو افرادی قوت، جدید اسلحے، محفوظ گاڑیوں اور نگرانی کے آلات کی کمی جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں سال دہشت گرد حملوں کا بڑا ہدف پولیس اور سکیورٹی ادارے رہے۔


وفاقی حکومت کے اس فیصلے کو خیبر پختونخوا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مدت، انتظامی اختیارات اور عملی طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

اپنی رائے دیں

دن کی اہم خبریں، ہر صبح آپ کے ای میل میں

مفت روزانہ نیوز لیٹر۔ کسی بھی وقت ایک کلک سے بند کریں۔