جمعہ، 2 اکتوبر 2026

کشمیر میں مارے جانے کا بھارتی دعویٰ، محمد آصف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں زندہ پیش

تحریر: · 2 منٹ میں پڑھیں
کشمیر میں مارے جانے کا بھارتی دعویٰ، محمد آصف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں زندہ پیش

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان بھارتی رپورٹس کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔ آزاد بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی نے بھی محمد آصف کی پریس کانفرنس میں موجودگی رپورٹ کی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں مارے جانے والے شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی تھی اور اسے کالعدم لشکر طیبہ سے منسلک قرار دیا گیا تھا۔ بعض بھارتی رپورٹس نے اسے سابق پاکستانی فوجی بھی بتایا اور مختلف حملوں سے اس کا تعلق جوڑا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے محمد آصف کو صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ پاکستانی سرکاری ریڈیو کے مطابق محمد آصف نے بتایا کہ وہ 2023 میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں مقیم ہیں۔
محمد آصف کے مطابق انہیں دوستوں کے علاوہ مختلف بھارتی نمبرز سے بھی فون موصول ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ بھارتی میڈیا ان کی ذاتی معلومات استعمال کرتے ہوئے انہیں کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والا شخص قرار دے رہا ہے۔ آصف کے مطابق وہ اس دوران اپنے گھر میں موجود تھے۔
بھارتی خبر رساں ادارے ANI سے منسوب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوئے، 2000 میں پاک فوج میں شامل ہوئے اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بھارتی رپورٹ میں پیش کی گئی شناخت اور اس شخص کو کشمیر میں مارے جانے کے دعوے کو غلط قرار دیا۔
بھارتی فوج کی جانب سے دوسری طرف یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ بڈگام کے علاقے میں کارروائی کے دوران ہاشم موسیٰ عرف آصف فوجی نامی لشکر طیبہ کا ایک رکن مارا گیا۔ بھارتی ذرائع نے اس شخص کو ماضی میں ہونے والے متعدد حملوں سے بھی منسلک کیا ہے۔

یہ خبر شیئر کریں